27 اپریل 2014 - 11:51
جموں کشمیر میں گرفتاریوں کی لہر، دسیوں کشمیری رہنما گرفتار

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں گرفتاریوں کی تازہ لہر میں100 کے قریب مزاحمتی لیڈروں اور کارکنوں کے علاوہ مشتبہ نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا جبکہ سید علی گیلانی سمیت درجنوں مزاحمتی لیڈروں کو گھروں میں نظر بند کیا گیا ہے۔ اس دوران حریت کانفرنس (گ) دفتر کو سیل کرنے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔

ابنا: کشمیر سے رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے بعد وسطی اور شمالی کشمیر میں انتخابی مہم منتقل ہونے کے ساتھ ہی گرفتاریوں کا تازہ چکر بھی شروع ہوا ہے جبکہ 100 سے زائد مزاحمتی کارکنوں ، لیڈران اور مشتبہ افراد کے گرفتار ہونے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔

ادھر گرفتاریوں کے خلاف احتجاج بھی جاری ہے جبکہ بانڈی پورہ کے حاجن علاقہ میں دوران شب 5 نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔ پولیس نے حاجن کے کئی علاقوں میں رات کے وقت مبینہ طور پر سنگبازوں کے گھروں پر چھاپے مارے جس کے دوران 5 نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔ اس دوران مقامی لوگوں اور نوجوانوں نے سڑکوں پر آ کر ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔ معلوم ہوا ہے کہ مقامی لوگ حاجن چوک میں جمع ہوئے اور انہوں نے گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیا جس کے ساتھ ہی پولیس کے ساتھ بھی ان کا آمنا سامنا ہوا اور جھڑپوں کا سلسلہ بھی شروع ہو ۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس پر مظاہرین نے سنگباری کی جبکہ فورسز و پولیس اہلکاروں نے مشتعل بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پہلے لاٹھی چارج کیا اور بعد میں اشک آور گولے داغے۔

دوسری جانب اس سلسلے میں جب کے این ایس نے پولیس کے ساتھ رابطہ قائم کیا تو انہوں نے کہا کہ امن و قانون میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابھی تک 5 نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ معصوم نوجوانوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے ۔ اس دوران حاجن میں دکانات و تجارتی مراکز بند رہے جبکہ ٹریفک کی نقل و حرکت پر بھی منفی اثرات پڑے جس کی وجہ سے عام زندگی متاثر ہوئی۔

شمالی اور وسطی کشمیر میں انتخابات سے قبل مزاحمتی لیڈروں اور کارکنوں کی گرفتاری کا سلسلہ بھی شروع ہوا ہے جبکہ 100 کے قریب لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔ مزاحمتی کارکنوں اور لیڈران کی گرفتاری کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ پولیس نے تحریک حریت کے سنیئر کارکن امتیاز حیدر اور حریت جے کے سے وابستہ سنیئر لیڈر محمد یاسین عطائی کے گھروں پر چھاپے مار کر گرفتار کر لیا اور بعد میں انہیں ہمہامہ تھانے میں مقید کیا گیا۔

ادھرماس مومنٹ کے چیئرمین مولوی بشیر کو آلوچی باغ سرینگر سے گرفتار کر کے تھانہ شیر گڑھی میں بند کیا گیا۔ تحریک حریت کے سنیئر لیدر میر حفیظ اللہ، پیر عبدالرشید، غلام حسن ڈار، غلام حسن ملک چوگل، عبدالاحد بیگ، امیر حمزہ، معراج الدین نندا، جاوید احمد نجار کے علاوہ چاڈورہ سے عامر علی اور اعجاز احمد صوفی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس دوران لبریشن فرنٹ کے ضلع صدر گاندربل بشیر احمد بویا کے علاوہ غیاث الدین اور مائسمہ کے محمد عادل کو بھی حراست میں لینے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ اس دوران گاندربل میں الیکش بائیکاٹ مہم کے دوران پارٹی کی سربراہ فریدہ بہن جی کے علاوہ عبدالرشید لون، محمودہ باجیہ راشیدہ بانو شمیمہ بیگم اور فریدہ بیگم کو حراست میں لیا۔

دریں اثناء وسطی کشمیر میں انتخابات کے پیش نظر لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کے علاوہ حریت جے کے سے وابستہ سنیئر لیڈر مشتاق الاسلام، حریت(گ) کے اسداللہ پرے، عبدالمجید پرے مختلف تھانوں میں نظر بند ہیں جبکہ حریت (گ) چیئرمین سید علی شاہ گیلانی، تحریک حریت کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی، فریڈم پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ، نیشنل فرنٹ کے چیئرمین نعیم خان، ڈاکٹر غلام محمد گنائی اور دیگر لیڈران بھی اپنے گھروں میں نظر بند ہیں۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ بارہمولہ میں پولیس نے شبانہ چھاپوں کے دوران 3 نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے قصبے کے مختلف علاقوں میں دوران شب چھاپے مارے جس کے دوران اشفاق احمد صوفی سکنہ درنگہ بل، واحد احمد بہرو سکنہ آزاد گنج اور شاہ نوا احمد میر سکنہ ککر حمام نامی نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔

ادھر ذرائع کے مطابق پولیس نے حریت(گ) کا دفتر سیل کر دیا اور کسی کو بھی اندر یا باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حریت ترجمان ایاز اکبر کے مطابق بعد دوپہر ایک پولیس آفیسر کی سربراہی میں پولیس کا ایک دستہ حریت(گ) کے دفتر واقع حیدر پورہ میں نمودار ہوا اور اس نے دفتر کو سیل کرنے کے علاوہ کسی کو بھی دفتر کے اندر یا باہر جانے کی اجازت نہیں دی۔

 .......

/169